*ہدیہ تبریک*
مکتوب نگاری زبان وأدب کی ایک مستقل صنف ہے،باباے اردو مولوی عبدالحق لکھتے ہیں :
” خط دلی خیالات و جذبات کا روزنامچہ اور اسرارِ حیات کا صحیفہ ہے۔“
مکتوبات ربط وضبط کے ذرائع ہیں تو اصلاح کے وسائل بھی، اس دور قحط المکتوبات میں بھی مکتوب نگاری کی اہمیت و افادیت مسلم ہے، سیکڑوں برقی پیغامات ایک طرف اور ایک چھوٹا سا رقعہ ایک طرف، دونوں میں کوئی مقابلہ نہیں.
بزرگانِ دین کے مکتوبات عوام وخواص، امرا و سلاطین، ارباب اقتدار و اختیار کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہوا کرتے تھے، اس سلسلے میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مکتوبات قابل ذکر ہیں،ہندوستان میں، معروف بزرگ حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کے مکتوبات بنام "مکتوبات صدی" امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد بن شیخ عبدالاحد فاروقی (م:١٦٢٤ء) کے مکتوبات بنام "مکتوبات مجدد الف ثانی" حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مکتوبات بنام "مکتوبات شاہ ولی اللہ محدث دہلوی" شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے مکتوبات بنام "مکتوبات شیخ عبدالحق محدث دہلوی" اور امام اہل سنت ، اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے مکتوبات بنام "کلیات مکاتیب رضا "وغیرہ عوام وخواص کی ہدایت و رہنمائی کا موثر ذریعہ بنے.
مفتی اعظم راجستھان، حضرت علامہ مفتی اشفاق حسین نعیمی (م:٢٠١٣)کی ذات محتاج تعارف نہیں، حضرت کی ذات سرچشمہ رشد وہدایت تھی، آپ کے حال وقال متلاشیان حق کے لیے مشعل راہ تھے،آپ کی تحریر ہو یا تقریر دونوں میں اللہ تعالیٰ نے بےپناہ تاثیر رکھی تھی صوبہ راجستھان میں آپ کی دعوتی، تعلیمی، تعمیری، تنظیمی، تحریکی اور تصنیفی خدمات کے درخشندہ نقوش آج بھی نمایاں طور سے محسوس کیے جاسکتے ہیں، آپ کی ہمہ جہت شخصیت کے متعلقین کا دائرہ بہت وسیع تھا،اپنے متعلقین سے راہ ورسم رکھنے اور ان کی اصلاح کے لیے آپ نے اپنے زمانے کے وسائل کا بھر پور استعمال کیا، انہیں ذرائع اتصال میں آپ کی مکتوب نگاری بھی ہے،آپ نے اپنے متعلقین کے پاس بہت سارے مکتوبات تحریر فرمائے ہیں جن کے ایک ایک لفظ سے آپ کے اخلاص وایثار، جذبہ دعوت و تبلیغ، احترام اکابر، خورد نوازی اور تعمیری ذوق کی خوشبو محسوس ہوتی ہے.
ضرورت تھی اس بات کی کہ اس مرد مجاہد کے ان مکتوبات کو یک جا کرکے منظر عام پر لایا جائے، *الحمد للہ اس کار خیر کا آغاز محب مکرم، حضرت مولانا محمد اسلم رضا قادری برکاتی رکن سنی تبلیغی جماعت باسنی ناگور شریف نے کردیا ہے،محب گرامی وقار سے ناچیز کے دیرینہ روابط ہیں، ایک بار ملاقات بھی ہوئی ہے،اللہ جل شانہ نے آپ کو خوبصورتی کے ساتھ خوب سیرتی سے بھی نوازا ہے، عزیز القدر مولانا محمد رضا علیمی زید مجدہ کے واسطے سے حضرت کی متعدد قلمی فتوحات باصرہ نواز ہوئیں، مزاج و انداز تحقیقی ہے، زود نویس ہیں، رضویات سے خصوصی شغف ہے، جماعت اہل سنت کی عظیم عبقری شخصیت، معمار ملت ،حضرت علامہ مفتی ولی محمد رضوی أطال اللہ عمرہ کے فرزند ارجمند ہیں _، "الولد سرلابیہ_ " کے سچے مصداق ہیں، دعوتی ذوق ورثے میں ملا ہے،* اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے اور مزید خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے.
مکتوبات کے باب میں اس نئے اضافے پر حضرت کی خدمت میں دلی مبارک باد پیش ہے، اللہ کرے کہ یہ کام جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچے.
*کمال احمد علیمی نظامی* جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں