Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

عہد آفریں شخصیت

 [7/6/2021, 21:18] Kamal Ahmad Alimi: *نواے دل* 

کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی 


جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں


جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفَس ان کی

الٰہی! کیا چھُپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں


تمنّا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں


نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو

یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

محب گرامی حضرت مولانا فیاض احمد مصباحی ہمارے دیرینہ احباب میں سے ہیں، آپ نہایت مخلص،محنتی اور خوش اخلاق عالم دین ہیں،حرکت وفعالیت ان کی سرشت میں داخل ہے،دینی مدارس کے مسائل کو لے کر آپ کو "حل المشكلات" کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا.

مجھے اب تک یہ نہیں معلوم تھا کہ آپ کو نمونہ اسلاف، عالم باعمل ،حضرت علامہ حیدر علی خان نعیمی مصباحی نوراللہ مرقدہ سابق استاذ جامعہ فاروقیہ مدھ نگر کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہے، خیر! ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء.

ممدوح گرامی حضرت علامہ حیدر علی نعیمی کے نام سے ہمارے علاقے میں دو بڑی شخصیتیں گزری ہیں، ایک تو خود حضرت کی ذات ہے جو بسنت پور کے رہنے والے تھے دوسری حضرت علامہ حیدر علی خان نعیمی صاحب جو مدھ نگر کے تھے، دونوں کے نام ولقب میں یکسانیت کی وجہ سے مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ دونوں حضرات دو الگ الگ ذات ہیں، دونوں حضرات کی رحلت کے بعد مجھے پتہ چلا کہ یہ دونوں حضرات ہمارے علاقے کی اکابر شخصیات میں نمایاں مقام رکھتے تھے.

علامہ موصوف کے تعلق سے مجھے بہت زیادہ جانکاری نہیں تھی،وجہ یہ ہے کہ جب سے باشعور ہوا اپنا علاقہ چھوڑ کر ضلع بستی میں واقع علیمیہ جمدا شاہی میں حصول علم پھر تدریس میں لگا رہا، بیس سال کی مدت گزر گئی یہیں رہتے ہوئے، علاقے میں نہ رہنے کی وجہ سے آج بھی بہت سارے علما وعوام سے ناآشنا ہوں،جس کا احساس کبھی کبھی تکلیف دہ بھی ہوتا ہے.

حضرت نعیمی صاحب علیہ الرحمہ کے تعلق سے حضرت غزالی دوراں علامہ مفتی محمد حفیظ اللہ خان نعیمی دامت برکاتھم سے کچھ باتیں معلوم ہوئیں، جن سے اندازہ ہوا کہ :


یہ کلی بھی اس گُلستانِ خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!

اپنے صحرا میں بہت آہُو ابھی پوشیدہ ہیں

بجلیاں برسے ہُوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں

علامہ موصوف کی خاموش مزاجی نے بھلے ہی آپ کو بہت زیادہ شہرت نہ عطا کی ہو مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ:

کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

آپ کا زمانہ طالب علمی دیکھنا ہو تو جامعہ فاروقیہ مدھ نگر، جامعہ امدادالعلوم مٹہنا اور جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی تاریخ دیکھ لیں، آپ ایک سعادت مند، محنتی اور ذکی طالب علم نظر آئیں گے جنھوں نے اپنے ممتحن کو سو میں سو نمبرات دینے پر مجبور کر دیا تھا.

میدان تدریس میں آپ نے جو کارنامے انجام دیے وہ آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں، جامعہ انوار العلوم تلشی پور ہو یاجامعہ فاروقیہ مدھ نگر دونوں اداروں میں آپ نے اپنی تدریسی صلاحیت کا لوہا منوالیا تھا،آپ کی درس گاہ فیض سے فیض یاب ہوکر بہت سارے لوگ مدرس، مصنف، مقرر اور محقق بنے،میں حضرت کا شاگرد تو نہیں نہ ہی حضرت کی تدریس کبھی دیکھی سنی ہے لیکن جس کی شان تدریس کا گن غزالی دوراں جیسے لوگ گائیں اس کی تدریسی لیاقت میں ذرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے:

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو ​

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو 

تصنیف وتالیف سے کوئی خاص شغف نہیں تھا مگر سیدی صدرالافاضل، فخرالاماثل کی کتاب مستطاب "موالاۃ" کی اولین اشاعت کا شرف آپ ہی کو حاصل ہوا، یوں ہی جامعہ نعیمیہ تلشی پور جو استاذ العلما علامہ عبدالرحمن نعیمی صاحب کی علمی یادگار ہے، میں پہلی بار صدرالافاضل سیمینار و کانفرنس کرانے کا سہرا بھی آپ ہی کے سر ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتابوں کا مصنف تو نہیں بنایا مگر مصنف گر ضرور بنایا.

سماعی طور پر معلوم ہوا کہ حضرت ایک نہایت خاموش طبع، شریف النفس، نیک طینت،خوش اخلاق، متواضع، حلیم وبردباراور پیکر علم وعمل جید عالم دین تھے، ایک دم سیدھے سادے "اھل الجنۃ بلہ" کے مصداق تھے، قوم وملت کے لیے دردمند دل، مذہب ومسلک کی ترویج واشاعت کے لیے بے چین روح اور شریعت مصطفویہ کی حفاظت وصیانت کے لیے مضطرب نفس کے مالک تھے،اللہ تعالیٰ نے آپ کو اچھے اساتذہ،اچھے رفقاے درس اور بہترین میدان عمل سے نوازا تھا،

[7/6/2021, 21:18] Kamal Ahmad Alimi: اس لیے آپ نے اپنے حصے کا کام احسن طریقے سے انجام دیا اور ایک مومن کی زندگی گزار کر اس دار فانی سے کوچ کر گئے، آپ کی زندگی ڈاکٹر اقبال کے ان اشعار کا مصداق تھی.


اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل

اس کی ادا دلفریب اس کی نگہ دل نواز

نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو

رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل پاک باز


ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم

دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں و ہ طوفان

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا فیاض احمد مصباحی کو ان کی سچی نیابت عطا فرمائے اور حضرت کے درجات بلند فرمائے: 

آسماں ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

ابر رحمت تیرے مرقد پر گہر باری کرے

حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

 عقیدت کیش

کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

Post a Comment

0 Comments