Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

مجلہ فکر فردا پر تاثر

 [4/6, 13:21] Kamal Ahmad Alimi: مجلہ فکر فردا کا مطالعہ کیا،مجلس ادارت کی محنت و مشقت،جگر سوزی اور مخلصانہ جدوجہد نے مجلے کو ایک انفرادی شان کا حامل بنا دیا ہے، حسن ظاہری کے ساتھ تحقیقی مقالات کا حسن انتخاب، حسن ترتیب اورحسن تقدیم دیگر علمی وادبی مجلات میں مجلہ فکر فردا کو شان امتیاز عطا کرتا ہے.

چند باتیں جو قابل توجہ ہیں بطور عریضہ پیش ہیں :

مجلے میں تحقیقی و تخلیقی مضامین کے ساتھ مجلے کے نام اور اس کے اغراض ومقاصد کے اعتبار سے بھی کچھ مضامین رکھے جائیں جو فی الحال زیر نظر مجلے میں نظر نہیں آرہے ہیں.

مجلے میں وہ تنوع نہیں جو اس مجلے کو ایک معیاری مجلہ بنا سکے، محض دو تین عناوین پر تفصیلی مقالات پیش کردینا نامناسب ہے، اور کسی بھی علمی و عصری مجلے کی روح کے خلاف بھی ہے.

کسی بھی مجلے کے مخصوص کالمز ہوتے ہیں جن کے تحت مقالات و مضامین پیش کیے جاتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ جو بھی مقالہ آیا اسی کے مطابق ایک کالم بنا دیا گیا، یہ چیز بھی قابل غور ہے.

مدیر محترم ایک لائق وفائق ادیب اور مضمون نگار ہیں مگر یہ بات کچھ نامناسب لگتی ہے کہ مجلے میں ایک ہی فرد کے افکار کو بار بار پیش کیا جائے، خصوصاً مدیر کو اس سے احتراز چاہیے، ہاں اگر مناسب مقالات نہ دستیاب ہوں تو حرج نہیں.

مستقل مضامین مجلے کی زینت ہوں ترجمہ، تلخیص وغیرہ مناسب نہیں.

مقالات بہت تفصیلی نہ ہوں کہ قاری اکتا جائے،تحقیقی مقالات اگر تفصیلی ہوں اور ان کو پیش کرنا ضروری ہو تو قسطوں میں کرسکتے ہیں.

اداریہ میں صرف مشمولات کا تعارف نہ ہو بلکہ کسی اہم عصری ایشو پرفکری وتعمیری تحریر ہو، جس میں اخیر میں مجلہ کے مشمولات کا اجمالی تعارف بھی چل جائے گا. 

یہ چند گزارشات ہیں، معذرت کے ساتھ، آئندہ مزید گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا. 

سوال یہ ہے کہ اتنے تفصیلی مقالات پڑھے گا کون، پھر آپ اگر محض خشک اور خالص تحقیقی مقالات پیش کریں گے تو پھر الگ مجلے سے بہت جلد اوب جائیں گے، اس لیے کچھ نہ کچھ دلچسپی کا سامان ضرور ہونا چاہیے، کیا ہو اس کا فیصلہ آپ کی مجلس ادارت کرے.

غیروں کی نقل کریں اچھی بات ہے، مگر کیا اپنے یہاں کامیاب مجلے نہیں نکلے ہیں، سواد اعظم، جام نور، کنز الایمان، معارف رضا کراچی وغیرہ، ان کی مقبولیت میں کیا شبہ ہے، ان کی نقل بھی مفید ثابت ہوگی.

رہی بات مقالہ نگاروں کی کمی یا بے توجہی کی تو مجلس ادارت میں ایک سے بڑھ کر ایک لکھاڑ ہیں، پھر ان کے متعلقین بھی ہیں، مزید مجلہ سہ ماہی ہے،تو کیوں نہ خود مجلس ادارت یا ان کے متعلقین ضرورت بھر مضامین لکھیں یا لکھوائیں.

بہر حال آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، میرے لائق جو بھی خدمت ہوگی میں حاضر ہوں.

Post a Comment

0 Comments