*پیکر علم وعلم*
پیکر علم وعمل،مخدوم گرامی ،میرے دادا استاذ، حضرت علامہ مفتی عبدالسلام صاحب قبلہ دامت برکاتھم ان علماے کرام میں سے ہیں جو صحیح معنوں میں وارثین انبیا کہلانے کے مستحق ہیں،وراثت نبوی کے جو بھی تقاضے ہیں آپ سب حضرت مفتی صاحب کی ذات میں موجود پائیں گے، علم کے ساتھ شوق عمل، علمی برتری کے ساتھ تواضع و انکساری،بڑکپن کے ساتھ خورد نوازی،منصب جلیل کے ساتھ خوش اخلاقی، علم وفضل میں جاہ وجلال کے ساتھ خندہ روئی یہ سب ایسی باتیں ہیں جو کم ہی کسی کے اندر یک جا ہوتی ہیں، مفتی صاحب قبلہ اس خصوص میں ممتاز ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے.
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی میں آپ نے ایک عرصے تک تدریس وافتا کے فرائض انجام دیے ہیں، حضور شیخ القرآن علامہ عبد اللہ خان عزیزی علیہ الرحمہ آپ پر حد درجہ اعتماد فرماتے تھے، اسی لئے جب پہلی بار علیمی دارالافتا کا قیام عمل میں آیا تو آپ کو صدر مفتی کا منصب جلیل شیخ القرآن نے عطا فرمایا، گویا آپ علیمیہ جمدا شاہی کے پہلے باضابطہ مفتی ہیں، مفتی صاحب قبلہ نے اپنے اس عہدے کا بھرم رکھا، محنت ومشقت کے ساتھ کارہائے افتا انجام دیے، سیکڑوں فتاوی لکھے، ساتھ ہی تدریسی امور میں بھی آپ بے نظیر تھے، آپ ان چند اساتذہ میں سے ہیں، جنھوں نے مدرسہ علیمیہ کو دارالعلوم علیمیہ بنایا، آج چمن علیمی کا ہر گل وغنچہ آپ کے فضل واحسان اور منت وکرم کی قصیدہ خوانی کرتا ہے.
اپنی حیات طیبہ کے تقریباً نوسال آپ نے مادر علمی علیمیہ کو عنایت فرمائے، اس دوران آپ جمدا شاہی اور قرب وجوار میں ایک متبحر مفتی، بے نظیر مدرس اور انقلابی مقرر کی حیثیت سے معروف رہے،یہ آپ کی تدریسی زندگی کا زریں دور تھا.
پھر مشیئت الہی سے ١٩٩٥ ء میں اپنے آبائی وطن سے قریب مشہور قصبہ اور بازار تلسی پور میں واقع جامعہ انوار العلوم میں بحیثیت مدرس ومفتی تشریف لے گئے،اور تاحال وہیں پر اپنا علمی فیضان لٹا رہے ہیں.
حضرت مفتی صاحب قبلہ ایک سیدھے سادے بے ضرر انسان ہیں، آج تک میری دانست میں آپ سے کسی کو کوئی ضرر نہیں پہنچا ہے،آپ کی سادگی میں علم وعمل کا حسن اور آپ کی خاکساری میں بزرگوں کا جمال وجلال پایا جاتا ہے، نہایت مخلص، ملنسار اور کشادہ قلب ہیں.
کئی بار ملاقات کا شرف حاصل ہے، جب بھی ملتے ہیں دل سے ملتے ہیں،تصنع سے دور، بناوٹ سے نفور، خود میں مسرور رہتے ہیں،ناچیز پر بڑی شفقت رہتی ہے، اکثر میری علمی کاوشوں کی تعریف کرکے حوصلہ افزائی کرتے ہیں،کہیں کہیں ازراہ عنایت کچھ زیادہ ہی کرم فرمادیتے ہیں، میں دل میں شرمندگی محسوس کرتے ہوئے رب سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اس لائق بنا دے کہ حضرت کے تعریفی کلمات مجھ پر صادق آسکیں.
کئی بار بلرام پور شہر میں واقع حضرت کے دولت خانے پر اہل وعیال کے ساتھ بھی جانے کا اتفاق ہوا،حضرت نےبے حد شفقت فرماتے ہوئے ناچیز کو اپنے خانوادے کا ایک فرد سمجھا.
حضرت کے صاحب زادے عزیز القدر مولانا حسان علیمی علیمیہ جمدا شاہی بستی میں زیر تعلیم ہیں، ان کے واسطے سے حضرت سے ہمارا رشتہ مزید مضبوط ہوتا ہے.
حضرت کے عظیم کارناموں میں فتاوی رضویہ قدیم کی چھٹی، ساتویں جلد کی تسوید، تبییض اور تصحیح ہے جو آپ نے حضرت بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی صاحب علیہ الرحمہ کی نگرانی میں کیا، امت مسلمہ پر یہ آپ کا عظیم احسان ہے، علاوہ ازیں ہزاروں فتاوی آپ کی فقہی صلاحیت وصلابت کی روشن دلیل ہیں، کاش یہ فتاوی مرتب ہوکر منظر عام پر آجاتے تو یہ جہان فقہ وافتا میں ایک گراں قدر اضافہ ہوتے.
حال ہی میں حضرت کی سرپرستی اور آپ کے صاحب زادے مولانا حسان علیمی کی نگرانی میں ایک عظیم الشان نسواں ادارے کی بنیاد حضرت گلزارِ ملت کے دست اقدس سے رکھی گئی ہے، یہ ادارہ شہر بلرام پور میں حضرت کے گھر کے پاس ہی زیر تعمیر ہے، ان شاء اللہ جلد ہی اس میں بچیوں کی تعلیم و تدریس کا آغاز ہوگا.
اللہ تعالیٰ حضرت کا سایہ کرم ہم سب پر دراز فرمائے اور آپ کے علمی فیضان سے ہمیں سرفراز فرمائے.
آمین بجاہ سیدالمرسلین.
کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
١٦ ذوالحجہ ١٤٤٣/ ١٦ جولائی ٢٠٢٢

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں