Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

من خوب می شناسم

ارشاد ربانی ہے :

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍۢ فَتَبَيَّنُوٓاْ أَن تُصِيبُواْ قَوْمًۢا بِجَهَٰلَةٍۢ فَتُصْبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَٰدِمِينَ(الحجرات :،٦)

حدیث شریف میں ہے :

 كَفَى بالمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ (رَوَاهُ مُسْلِم فی صحیحہ) 

دونوں ارشادات سے واضح ہے کہ ہرسنی سنائی بات نقل کرنا، - تحریر میں یا تقریر میں - ناقل کو کاذب بنادیتا ہے،اسی لئے محتاط اور سچے لوگ کسی کے تعلق سے کوئی بات سنتے ہیں تو پہلے صاحب معاملہ سے استفسار کرتے ہیں، نہ یہ کہ چٹخارہ لے کر عوام وخواص میں بیان کرتے ہیں،اگر کسی کی کسی سے نہیں بنتی ہے تو تحقیق کے اور بھی ذرائع ہیں ان کو بروئے کار لا کر سچائی کی تہہ تک پہنچنا چاہیے، خودساختہ مفروضات پر جھوٹ کا پہاڑ  کھڑا کرنا کار خردمنداں نیست. 

اگر حضرت علامہ مفتی شفیق الرحمان صاحب قبلہ نے ناچیز کو" فخر علیمیہ" کہہ دیا تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ محرر کاذب کا سینہ آتش حسد سے کیوں پھٹ رہا ہے، خود بھی اس طرح کا کام کرے کہ لوگ اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اچھے القاب سے یاد کریں، یا پھر زندگی بھر دو جماعتوں میں انتشار پھیلانے اور آتش اختلاف میں لکڑی ڈالنے ہی کا کام کریں گے؟ 

وہ تحریر کیا ہے جس کو موضوع سخن بنایا گیا ہے، مضمون میں ذکر نہیں، یہ محرر کی اعلی درجے کی حماقت ہے بلکہ انتہاے عداوت ہے کہ طعن تو کردیا مگر منشا طعن کا ذکر ہی نہیں کیا. فیا للعجب. 

محرر صاحب نے اپنا اسم گرامی ذکر نہیں فرمایا ہے، بلکہ "مطیۃ الکذب قالوا" والا اسلوب اختیار ہے، یہ بھی ان کے کذب اور بزدلی کی دلیل ہے. 

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں 

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں 

یہ اور بات ہے کہ مجھے بخوبی معلوم ہے کہ اس پردہ زنگاری میں کس کا رخ ناز چھپا ہے. 

حق پسند بہادر سامنے سے وار کرتا ہے، پردہ نشین بن کر پیٹھ پیچھے سے نہیں. 

میری تحریر کا اسلوب وطرز کیا ہے کم از کم علیمی برادران تو جانتے ہیں،کاش وہ تحریر مل جاتی تو معاملہ خود بخود واضح ہوجاتا. 

بندہ لاشی کو اتنی فرصت نہیں کہ کسی کی بےجا تعریف و توصیف کرے، نہ ہی اتنی مہلت کہ کسی پر بلا وجہ زبان طعن وتنقید دراز کرے،بفضلہ تعالیٰ خود کو دینی کاموں میں اس قدر مصروف کرلیا ہوں کہ ان سب باتوں کے لیے میرے پاس وقت ہی نہیں،ایسے میں اس طرح کا بےجا الزام ظلم و زیادتی کے سوا کچھ بھی نہیں. 

ملک کے موجودہ حالات سے چشم پوشی کرکے اس طرح کے مسائل پر وہی انرجی صرف کرسکتا ہے جسے ملت کی کوئی فکر نہیں، وہ صرف اپنی انانیت کی تسکین کے لیے اس طرح کی اوچھی حرکتیں کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سب کو سمجھ دے. 

عطائیں مقتدر غفار کی ہیں 

عبث بندوں کے دل میں غل ہے یا غوث 


کمال احمد علیمی نظامی

Post a Comment

0 Comments