خدمت دین کے بہت سارے ذرائع ہیں،ان میں فتوی نویسی سب سے مفید اور بابرکت ذریعہ ہے، قرآن مجید کے مطابق دنیا میں اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر فرمانا چاہتا ہے اسے فقہ کا علم عطا فرماتا ہے.کما ورد فی القرآن الکریم :
یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ( البقرۃ :۲۶۹)
ترجمہ :اللہ جسے چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جسے حکمت دی جائے تو بیشک اسے بہت زیادہ بھلائی مل گئی اور عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔
"حکمت " سے مراد علم فقہ ہے(کما جاءفی المدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۹، ص۱۳۹، وتفسیر خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۹، ۱ / ۲۱۱)
مواصلاتی انقلاب کے اس دور میں جب سے شوشل میڈیا کا رواج ہوا، لوگوں نے اس پراسرار دنیا سے جہاں حددرجہ نقصان اٹھایا وہیں سعادت مند لوگوں نے اس سے فائدہ بھی خوب اٹھایا،اللہ تعالیٰ نے دنیا کی کوئی شے بیکار نہیں بنائی، اب یہ دنیا والوں پر منحصر ہے کہ اس کا استعمال خیر میں کریں یا شر میں،اس میدان سے جڑے کچھ اہل علم حضرات نے اس پلیٹ فارم کو شرعی مسائل کی ترویج و اشاعت کے لئے استعمال کیا،اس طریقہ کار سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا، سوال کرنا بھی آسان ہو گیا اور جواب دینا بھی،پہلے ایک فتویٰ حاصل کرنے میں مہینوں لگ جاتے تھے اب شوشل میڈیا نے اس کام کو آسان بنا دیا ہے،لوگوں کے لئے سہولت ہوگئی ہے.
المیہ یہ ہے کہ ہمارا فریق مخالف جب میدان مار لیتا ہے تب ہم میدان میں قدم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں،شوشل میڈیائی فتوی نویسی میں بھی یہی ہوا،اس میدان کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئےدارالعلوم دیوبند اورجامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن وغیرہ نے اپنی پوری ٹیم لگا کر اس شعبے میں زبردست پیش رفت کی، جب کہ ہمارے یہاں اس طرف بالکل التفات نہ کیا گیا، نیٹ پرکوئی بھی مسئلہ سرچ کرنے پر سرفہرست غیروں کے فتاوی سامنے آنے لگے،یہ صورت حال نہایت خطرناک تھی کہ اس سے ہماری نئی نسل بہت سارے مسائل میں گمرہی کی طرف جارہی تھی.
خدا بھلا کرے ان مفتیان کرام کا جنھوں نے اس پہلو پر توجہ دی اور شوشل میڈیا پر فتویٰ نویسی کا سلسلہ شروع کیا،ان حضرات نے پوری امت مسلمہ کا قرض اتارا اور بدمذہبوں کے گمراہ کن فتاوی سے ملت اسلامیہ کو آگاہ کرتے ہوئے انہیں صراط مستقیم دکھائی.
زیر نظر کتاب "فتاوی غوث وخواجہ"شوشل میڈیا پر آنے والے سوالات کے شرعی جوابات کا حسین مرقع ہے،جس میں کتاب الحظر والاباحۃسے متعلق فتاوی جمع کیے گئے ہیں، شروع کے چند فتاوی نظر سے گزرے،علمی قحط کے اس دور میں ہمارے مفتیان کرام نے امید کا چراغ جلایا ہے،ان کی محنت اور فتوی نویسی میں درک دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ ان شاء اللہ تعالیٰ فتوی نویسی کا مستقبل ان کے نور قلم سے تابندہ ہوگا، امت مسلمہ ان کے علمی افادات سے مستفید ہوگی،دین مصطفی کا سورج دمکتا رہے گا، شرعی عدالت کی شان باقی رہے گی.
میں اس لائق نہیں کہ فتاوی کی تصدیق کروں، اس عظیم کارنامے پر پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعا گو ہوں کہ مولی تعالیٰ سب کو سلامت رکھے اور مزید خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے.
آمین بجاہ سیدالمرسلین علیہ افضل الصلوات والتسلیم.
*کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
١٨ ربیع النور شریف ١٤٤٤/ ١٥ اکتوبر ٢٠٢٢

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں