*علم کا تقاضا*
علم بغیر عمل کے بے کار ہے،عمل علم کا حاصل اور نتیجہ ہے،بے عمل عالم اس اندھے کی مانند ہے جس کے ہاتھ میں چراغ ہو کہ دوسرے تو اس سے فائدہ اٹھائیں مگر خود محروم رہے،علم پر عمل سے علم میں اضافہ ہوتا ہے،جب کہ ترک عمل فسق وفجور اور تکبر وغرور کا باعث بنتا ہے.
امام مالک بن دینار فرماتے ہیں :
إِذَا تَعَلَّمَ الْعَبْدُ الْعِلْمَ لِيَعْمَلَ بِهِ کَثُرَ عِلْمُهُ وَإِذَا تَعَلَّمَهُ لِغَيْرِ الْعَمَلِ زَادَهُ فُجُوْراً وَتَکَبُّراً وَاحْتِقَاراً لِلْعَامَّةِ.
(الشعراني، الطبقات الکبری/٥٨)
ترجمہ :جب آدمی عمل کرنے کی نیت سے علم حاصل کرے تو اس کا علم زیادہ ہو جاتا ہے اور جب عمل کی نیت کے بغیر علم حاصل کرے تو نافرمانی، تکبر اور عام لوگوں کو حقیر جاننے جیسے بُرے اعمال میں اضافہ کا سبب بن جاتا ہے۔
*کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں