Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

سیاست

 * نیتا جی ملائم سنگھ یادو* 


ہندوستان کے سیاسی افق پر بہت سارے ماہر سیاست داں پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی فکر وعمل سے پوری دنیا کو متاثر کیا، مگر ان میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی معتدل فکر، سیکولر مزاجی ،اصلاحی کارناموں اور جمہوری نظام کے نفاذ میں جد وجہد کی وجہ سے تاریخ کا حصہ بن گیے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے پولیٹیکل ہسٹری کے زریں صفحات پر چاند سورج کی طرح دمکتے رہیں گے.

انہیں عظیم سیاست دانوں میں مسیحاے قوم، دھرتی پتر، نیتاجی ملائم سنگھ یادو جی کا نام بھی آتا ہے، جنھوں نے ایک صاف ستھری شبیہ کے ساتھ ہندوستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا اور پوری زندگی فرقہ پرستی،باہمی نفرت اور اونچ نیچ کی گندی سیاست کے خلاف جنگ کی اور بہت حد تک اس میں کامیاب بھی رہے.

نیتا جی ملائم سنگھ یادو (22 نومبر 1939ء – 10 اکتوبر 2022ء) ایک عظیم سیاست دان اور سیکولر پارٹی سماجوادی پارٹی کے بانی اور سرپرست تھے۔ انھوں نے مسلسل تین مرتبہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں، اور مرکزی حکومت میں وزیر دفاع بھے رہے ۔ مین پوری لوک سبھا حلقے کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک طویل عرصے تک وہ رکن پارلیمان، لوک سبھا رہے، نیز اس سے قبل بھی اعظم گڑھ اور سنبھل حلقوں سے رکن پارلیمان رہ چکے تھے.

ان کو نیتا جی، کسان نیتا اور دھرتی پتر جیسے القاب سے نوازا گیا بلکہ ملک کی تاریخ میں اگر سبھاش چندر بوس کے بعد کسی کو نیتا جی کہا گیا تو وہ ذات ملائم سنگھ یادو جی کی ہے۔

نیتا جی کی عملی زندگی کا آغاز پہلوانی سے ہوتا ہے اور یہی چیز ان کی ترقی کا ذریعہ بھی بنی، چناں چہ ایک اپنے زمانے کے مشہور سیات داں نتھو سنگھ نے آپ کی فنکاری دیکھی تو انہوں نے نیتا جی سے سیاست کے میدان میں اترنے کی درخواست کی، انہوں نے ملائم سنگھ یادو سے 1967 میں اٹاوہ کی جسونت نگر سیٹ سے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر لڑنے کے لئے کہا۔ اس انتخاب میں، ملائم جیت گئے اور قانون ساز اسمبلی میں سب سے کم عمر ایم ایل اے یعنی صرف 28 سال میں رکن بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

یہ نیتا کی سیاسی زندگی کا اعزازی پہلو ہے کہ وہ آٹھ بار صوبائی اسمبلی کے اور پانچ بار لوک سبھا کے ممبر منتخب ہو ئے۔تین بار یو پی کے وزیر اعلیٰ رہے اور ایک بار مرکزی کابینہ میں بطور وزیر دفاع شامل رہے.

 وزیر دفاع کی حیثیت سے نیتا جی کا دور حصول یابیوں کا رہا۔ یہ اصول بنا کہ شہید ہونے والے فوجیوں کے جسد خاکی کو ان کے آبائی وطن لایا جائے تا کہ اہل خانہ ان کی آخری رسومات میں شامل ہو سکیں اس سے پہلے یہ رسومات ان کے مذہب کے مطابق سرحد پر ہی ادا کر دی جاتی تھیں۔یقیناً ہندوستانی فوج پر یہ آپ احسان عظیم تھا.

1992 میں نیتا جی نے اپنی جدوجہد سے پرانے سوشلسٹ لیڈروں کو یک جا کر کے سماج وادی پارٹی قائم کی۔ جس کی پہلی نشست لکھنؤ کے بیگم حضرت محل پارک میں منعقد ہوئی، یہ اجلاس کئی روز تک چلتا رہا۔ بھگوتی پرساد، اعظم خان ،بینی پرساد ورما وغیرہ شانہ بشابہ رہے۔آخر نیتا جی ہندوستان کی سیاست میں اپنی ایک الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے.

یوں تو نیتا جی کے دل کا دروازہ سب کے لیے کھلا تھا، آپ نفرت اور فرقہ پرستی والی سیاست سے سخت نفرت کرتے تھے،ہندو مسلم اتحاد کے زبردست داعی تھے،آپ کی نظر میں سب ہندوستانی تھے، کسی کو کسی پر فوقیت نہیں حاصل تھی.

ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے لیے جتناکام نیتا جی نے کیا شاید کسی نے کیا ہو، شرپسند عناصر کو آپ کا یہی طرز عمل پسند نہیں تھا، مگر آپ اپنے دھن کے بڑے پکے تھے، ہمیشہ مسلمانوں کی مسیحائی کرتے رہے.

نیتا جی کی سیکولر مزاجی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جب بابری مسجد کے کو شہید کر کے  کچھ لوگوں نے ملک کی فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کی تو آپ نے اس وقت ان کے خلاف سخت ایکشن لیا اور اس طرح سے انہوں نے اپنی معتدل اور مثبت فکر کی بدولت مسلمانوں ہی کا نہیں بلکہ ہر جمہوریت پسند ہندوستانی کا دل جیت لیا. 

الہ آباد ہائی کورٹ نے جب بابری مسجد کی اراضی تین حصوں میں تقسیم کرنے کا عجیب وغریب فیصلہ سنایا تو یہ ملائم سنگھ ہی تھے جنھوں نے کہاتھا کہ "مسلمان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں"۔ وہ مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنا جانتے تھے اور اپنی اسی ادا سے وہ مسلمانوں کا دل جیت بھی لیتے تھے.

انھوں نے اپنے دوسرے دور حکومت میں اردو اساتذہ اور مترجمین کی بھرتی کے ذریعہ کچھ مسلمانوں کو روزگار فراہم کیا اور یوپی میں تمام سرکاری محکموں کے نام اردو میں لکھواکر اپنی اردو دوستی کا ثبوت دیا اور بہت سارے بے روزگار مسلمانوں کو روزگار سےجوڑ کر انہیں خوش حال زندگی کی سوغات دی.

2012 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد انھوں نے اس بات کا کھل کر اعتراف کیا تھا کہ مسلمانوں نے اپنے سارے ووٹ سماجوادی پارٹی کی جھولی میں ڈال دئیے ہیں، لہٰذا سماجوادی کارکنوں کو ان کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔

نیتا جی نے عربی فارسی مدارس پر بھی بڑا احسان کیا، ٹیچرس ایسوسی ایشن آف مدارس عربیہ اترپردیش کی 1995 ء میں منعقد صوبائی کانفرنس میں وہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے، 1992 میں جب حکومت نے مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ روک دی تو اس کی مخالفت میں ودھان سبھا کے سامنے اپنے ساتھیوں اعظم خان، بینی پرساد ورما ،احمد حسن وغیرہ کے ساتھ زبردست احتجاج کیا،علاوہ ازیں پوری تنخواہ کی ادائیگی بینک کے ذریعے کرانا، منشی مولوی اور عالم کی سند کو ہائی اسکول، انٹر کے برابر قرار دلوانا، بہت سارے مدارس کو گرانٹ پر لینا یہ سب آپ کی زندگی کے عظیم کارنامے ہیں جنھیں ہندوستان کا مسلمان کبھی بھول نہیں سکتا ہے.

بہر حال نیتا جی اپنی مثال آپ تھے، اب آپ جیسا دوسرا سیاست کا پیدا ہونا مشکل ہے، جس طرح سے انہوں نے مسلمانوں کی مسیحائی کی ہے شاید کوئی دوسرا کرے، سچ ہے.

 

اس دور میں جب دور تک سایہ نہ پائے گا

وہ آخری درخت بہت یاد آئے گا

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاوں گا

میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا.

10 اکتوبر 2022 کو نیتا جی اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے، آپ کے جانے سے سیاست میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا بھرنا بہت مشکل ہے، آپ چلے گئے مگر آپ کی منفرد خوبیاں ہمیشہ آپ کو اہل ہند کے دلوں میں زندہ رکھیں گی ، آپ کے کارنامے آپ کی یاد دلاتے رہیں گے، اور آپ کی مسیحائی کی داستان ہمیشہ سنائی جاتی رہے گی.

نیتا جی کا جانا بہت تکلیف دہ تھا مگر ہمیں یہ دیکھ کر تسلی ہوجاتی ہے کہ آپ اپنی نیابت کرنے کے لیے اپنے لائق فرزند عزت مآب جناب اکھلیش یادو جی کو ہمارے بیچ چھوڑ گیے ہیں جو آپ کا عکس جمیل ہونے کے ساتھ ایک قابل سیاست داں اور پڑھے لکھے نیتا ہیں جو اپنے آدرش پتا کے اصولوں پر چلتے ہوئے ملک کے تمام عوام وخواص کوایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں اور ملک کی تعمیر وترقی کا جذبہ رکھنے والے نہایت متحرک وفعال قائد ہیں، سماج واد کے سب بڑے پرچارک ہیں، ایک بار یوپی کا وزیر اعلیٰ بن کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں.

Post a Comment

0 Comments