*حسن ظن*
بندگان خدا کے بارے میں خوش گمانی کو حسن ظن کہتے ہیں،کسی بھی فرد یا جماعت کو جب ہم اپنی مخصوص نظر سے دیکھتے ہیں تب بدگمانی راہ پاتی ہے، اگر ہم شریعت اور فطری اخوت کی نگاہ سے دیکھیں تو خوش گمانی کی دولت میسر ہو ،بہت سارے معاملات بدگمانی سے بگڑتے ہیں،سماج میں اگر حسن ظن کا رواج ہوجائے تو صدہا مفاسد کے دروازے خود ہی بند ہوجائیں گے.
اس تناظر میں رسول کریم علیہ السلام کا یہ ارشاد کتنا معنی خیز ہے:
( *اے کعبہ!)تو کتنا پاکیزہ ہے، تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے، تو کتنا معظم ہے، تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، لیکن اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی جان ہے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک ایک مؤمن، اس کے مال، اس کے خون، اس کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی حرمت تیری حرمت سے بھی زیادہ ہے* ۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب الفتن،ج ٢،ص ٣١٩)
*کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں