*(۱)* کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل میں کہ زید کا انتقال ہوگیا اس کے دو بیٹے ایک بیٹی اور بیوہ ہے، زید نے اپنے انتقال سے پہلے اپنے تینوں بچوں کی شادی کردی، لڑکی کی شادی کے موقع پر لڑکوں سے یہ کہتے ہوئے کہ تم لوگ اس کا حصہ نہیں دے پاؤگے اس لئے اس نے کچھ زائد رقم بچی کو دے دیا۔
*(۲)* زید کے پاس چار دکانیں تھیں جس کو اس نے اپنی زندگی ہی میں دو بڑے بیٹے کے نام اور دو چھوٹے بیٹے کے نام کردیا۔
*(۳)* زید کے پاس دو فلیٹ، ایک اس کے نام پر دوسرا اس کی بیوہ کے نام پر ہے لیکن زید نے اپنی زندگی ہی میں کہہ دیا تھا کہ ایک فلیٹ بڑے لڑکے کا ہے اور دوسرا چھوٹے بیٹے کا ہے۔
اب غور طلب امر یہ ہے کہ دونوں بھائی بٹوارہ کررہے ہیں تو کس کو کتنا حصہ ملے گا؟
قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
مستفتی!
سرفراز عالم خان، ممبئی
27/12-2022
*الجواب بعون الملک الوھاب *
*(۱)* والد نے اپنی بیٹی کو جہیز کے طور پر زیورات، نقدی اور جائیداد وغیرہ جو کچھ دیا تھا، اگر دیتے وقت بیٹی سے کہہ دیا تھا کہ یہ تمہاری میراث کا حصہ ہے، اور میرے انتقال کے بعد میری وراثت میں تمہارا کوئی حق و حصہ نہیں ہوگا اور والد کی موت کے بعد بیٹی اور دیگر وارثین اس پر رضامند ہیں تو ایسی صورت میں مذکورہ بیٹی کا ترکہ سے دست بردار ہونا صحیح ہوجائےگا، بشرطے کہ تخارج کی تمام شرطیں پائی جائیں۔ لیکن اگر بیٹی کو مذکورہ جائیداد دیتے وقت ایسا معاہدہ نہیں ہوا ، یا ہوا مگر باپ کے انتقال کے بعد بیٹی یا دیگر کوئی وارث راضی نہیں تو تمام ترکہ میں بیٹی بھی حصہ دار ہے۔
یوں ہی اگر باپ نے اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر جہیز کے طور پر یہ سب چیزیں دی تھیں، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں اپنی زندگی میں جو کچھ اپنی بیٹی کو قبضہ وتصرف کے ساتھ مالک بنا دیا تھا وہ والد کی جانب سے ہبہ ہے، والد کے انتقال کے بعد بیٹی کو شریعت کے قانون کے مطابق والد کے ترکہ میں سے حصہ ملے گا، اگرچہ والد نے اس سے منع کیا ہو۔
*فتاوی رضویہ شریف میں ہے:*
"وارث سے اس کے حصہ میراث کے بابت جوصلح حیات مورث میں کی جائے تحقیق یہ ہے کہ باطل وبے اثرہے اس سے وارث کاحق ارث اصلاً زائل نہیں ہوتا۔ ہاں اگربعد موت مورث اس صلح پررضامندی رہے تو اب صحیح ہوجائے گی۔"
(فتاوی رضویہ١٠ص۴٢٢)
اسی میں ہے:
"بید ان الواجب عندی رضی الورثۃ جمیعا بعد موت المورث لا رضی المصالح وحدہ فان التخارج مبادلۃ بینھم فلابد من رضاھم جمیعا لاسیما اذا کان الذی عُیِّن لہ ازید من حقہ۔"(ایضا ص ۴٢٣، ۴٢۴) واللہ تعالی اعلم۔
(۲) اگر زید نے دکانیں اپنے دونوں بیٹوں کے نام کرکے ان کو مالک و قابض بھی بنادیا تب تو بیٹے ہبہ کی گئیں دکانوں کے مالک ہوگئے۔اور ان میں دیگر وارثوں کا حصہ نہیں۔ اور اگر زید خود ان دکانوں پر قابض رہا اور ان لڑکوں کی طرف سے قبضہ نہ پایا گیا تو قبضہ نہ پائے جانے کے سبب اس کے انتقال سے یہ ہبہ باطل ہوگیا اور مذکورہ بیٹوں سمیت تمام ورثہ اس میں حقدار ہوں گے۔ در مختار میں ہے:
ولو وھب کل المال للولد فی صحتہ جاز وأثم
*(الدر المختار مع ردالمحتار، کتاب الھبتہ ج۸: ص ۵۰۱-۵۰۲)*واللہ تعالی اعلم۔
(۳) اگر زید نے زندگی میں فلیٹ بیوی کے نام کرکے اس کو قابض بنادیا تھا، تو وہ بیوہ ہی فلیٹ کی مالک ہوگی،اور اس فلیٹ میں وراثت جاری نہ ہوگی۔ہاں! اگر وہ اپنی رضامندی سے اپنے مقبوضہ فلیٹ کو بیٹوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتی ہے.اور اگر بیوہ نے زید کی حیات میں قبضہ نہ کیا تھا تو انتقال سے یہ ہبہ بھی باطل ہوگیا۔۔فتاوی رضویہ میں ہے:
"ہاں واہب کا اپنا قبضہ تمام وکمال اٹھاکر موہوب لہ کا قبضہ کرادینا ضرور ہے اگر ذرا دیر کو بھی تاحیات نہ کیا ، ہبہ موتِ واہب قبلِ قبضہ زوجات سے باطل ہوگیا۔"(فتاوی رضویہ١٩ص٣٣١)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
٥ جمادی الآخرۃ ١٤٤٤/ ٢٩ دسمبر ٢٠٢٢

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں