آپ کا نام نامی سید محمد اشرفی جیلانی ہے،والد ماجد کا نام مبارک حکیم الاسلام حکیم سید نذر اشرف ہے، قوم نے آپ کی دینی، ملی اور معاشرتی خدمات کے اعتراف میں محدث اعظم ہند، مخدوم ملت ،سید الشعرا جیسے القابات سے یاد کیا، واضح رہے کہ محدث اعظم ہند کا لقب آپ کو صرف ١٧ سال کی عمر میں ملا جو ایک بہت بڑا اعزاز ہے.
آپ کی ولادت با سعادت خانقاہ اشرفیہ احمدیہ جائس شریف ضلع راے بریلی میں ١٥ ذی قعدہ ١٣١١ ھ / ١٨٩٤ ء میں ہوئی، ١٩ ربیع النور ١٣١٥ میں بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کی گئی، ابتدائی تعلیم جائس ہی میں ہوئی، پھر لکھنؤ، علی گڑھ، پیلی بھیت شریف ،بریلی شریف ،اور بدایوں میں متعدد ارباب علم وفضل سے اکتساب فیض کیا،آپ کے اساتذہ کرام میں مندرجہ ذیل حضرات نہایت معروف ہیں:
بیعت و خلافت :ظاہری علوم کی تحصیل کے باطنی علوم کی طرف متوجہ ہوئے، خال محترم،شہزادہ حضور اشرفی میاں، سلطان الواعظین، حضرت علامہ سید احمد اشرف سے بیعت ہوئے، مدینہ منورہ میں اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے.
اس دور میں مجدد اعظم، امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کے علم و فضل کا چرچا سن کر ماموں کے ساتھ بارگاہ امام میں حاضر ہوئے، امام اہل سنت نے حد درجہ تکریم فرمائی اور اپنی خلافت سے سرفراز فرمایا.
*خدمات*
آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے،تبلیغ، تقریر، ،تصنیف،تعمیر جیسے اہم شعبوں میں آپ نے عظیم خدمات انجام دیں.
علم حدیث کی نشر و اشاعت کے لئے پہلی بار باضابطہ حضرت علامہ سید محمد میر صاحب کی سرپرستی میں ١٣٣٠ ھ میں مدرسۃ الحدیث کی بنیاد رکھی،جس سے بہت سارے ماہرین علم حدیث پیدا ہوئے.
صحافتی میدان میں بھی اترے اور ١٩٢٢ ء میں کچھوچھہ شریف سے ماہ نامہ اشرفی جاری فرما کر امت مسلمہ کے عقائد و افکار کی بھرپور ترجمانی فرمائی.
آپ کی خدمات بنیادی طور سے دو شعبوں میں منقسم ہیں:ایک تو ہزاروں غیر مسلموں کو دامن اسلام سے وابستہ کرنا، دوسرے لاکھوں افراد کو سلاسل مشہورہ قادریہ، چشتیہ،نقش بندیہ، سہروردیہ میں داخل کرکے ان کی روحانی تربیت کرنا.
*حج بیت اللہ*
۵/ مرتبہ حج بیت اللہ سے مالا مال ہوئے۔
*تبلیغی دورے*
حرمین طیبین، بغداد، کربلا ، نجف، کاظمین بلد، کوفہ، بیت المقدس، دمشق، مصر، یمن، عدن، سیلون، رنگون، ڈھاکہ، پشاور، خیبر، کلکتہ، مدراس، کیرالا، حیدرآباد، کراچی، غزنی، کابل، لاہور، ملتان.
سال کے بارہ ماہ مسلسل سفر میں گزرتے ماہ رمضان المبارک کے ۳۰ دن اور محرم الحرام کے آخری عشرے عرس مخدوم سمنانی قدس سرہ کے موقع پر کچھوچھہ شریف قیام فرماتے۔
*آخری دورہ*
جنوبی ہند اور گجرات کا تھا(ستمبر و اکتوبر ۱۹۶۱ء)،
۲۵/ اکتوبر ۱۹۶۱ء بحالت علالت کچھوچھہ شریف واپسی ہوئی،۱۰/ اکتوبر ۱۹۶۲ء لکھنؤ تشریف لائے، ۱/ ماہ ۱۴ دن بغرض علاج لکھنؤ میں قیام رہا.۱۶/ رجب المرجب ۱۳۸۱ھ م ۲۵/ دسمبر ۱۹۶۱ء بروز دوشنبہ بوقت ۱۲:۳۰ بجے دن وصالِ پرملال ہوا۔
*نماز جنازہ*
سرکار کلاں، سید محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی رحمۃ اللہ سجادہ نشین کچھوچھہ شریف نے پڑھائی۔

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں