قرآن مجید میں ابابیل سے مراد ہمارے یہاں معروف چڑیا "ابابیل" نہیں، دراصل ابابیل کے بہت سارے معانی ہیں، چنانچہ لغت کی کتابوں میں ہے:
أبَابِيل [عام] [اسم] غول کےغول، جھنڈ کے جھنڈ ۔ کثرت بتانے کیلئے اتا ہے قرآن كريم میں ہے ﴿وأرسَلَ عَلَیْہِم طَیْراً أبَابِیل﴾ (جمع ہے اس کا واحد نہیں ).
قرآن مجید میں ایک خاص قسم کے پرندے مراد ہیں،جو جُھنڈ در جُھنڈ بحر احمر سے آئے تھے،ان کے پنجے کتوں کی طرح اور چونچ درندوں کے منہ کی طرح تھے،حجم میں بہت چھوٹے تھے.(تفسیر طبری وغیرہ)
چھوٹے پرندوں کو بھیجنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ رب العالمین قادر مطلق ہے، وہ دنیا کی نہایت چھوٹی اور کمزور مخلوق سے بھی ہاتھی جیسے بڑے جانور کو ہلاک کرسکتا ہے،فرعون وقت کی ہستی کو نشان عبرت بنا سکتا ہے.
واللہ اعلم بالصواب.

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں