*انوار نبوت*
*کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
سلطان الاساتذہ، شیخ القرآن ،حضرت علامہ عبداللہ خان عزیزی علیہ الرحمہ سابق صدر المدرسین وشیخ الحدیث دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی کی شخصیت جہان علم میں ایک لائق وفائق استاذ اور عظیم مفسر قرآن کی حیثیت سے متعارف ہے،تدریس آپ کا محبوب مشغلہ تھا،اسی کو آپ نے وظیفہ حیات سمجھا،اور اپنے دور کے قابل ترین اساتذہ میں شمار کیے گئے.
تفسير قرآن آپ کی دستار کرامت کا طرہ امتیاز تھی، اس فن میں اپنی مثال آپ تھے،میں نے لوگوں سے سنا تھا کہ آپ جب مدارک شریف اپنی لَےمیں پڑھاتے تھے تو درس گاہ میں طلبہ نعرہ لگاتے تھے، پھر عمر کے آخری حصے میں جب ایک بار پھر علیمیہ جمدا شاہی میں تشریف لائے تو کتاب مذکور ہی زیر تدریس آئی، آپ کی درس گاہ کے ٹھیک سامنے ہی میری بھی درس گاہ تھی، میں اکثر اپنی گھنٹی پڑھا کر آپ کی تدریسی تقریر سنتا،عالم ضعیفی میں جس ولولے کے ساتھ پڑھاتے تھے اسے دیکھ کر ہمیں رشک ہوتا، انداز خطیبانہ ہوتا،تفہیم قرآن میں ملکہ حاصل تھا،اس لیے اس طرح پڑھاتے کہ طلبہ جھوم اٹھتے.
فن تفسير میں معارف التنزیل شرح مدارک التنزیل آپ کی عظیم علمی یادگار ہے.
ابھی تک آپ لوگوں کی نظر میں ایک عظیم مفسر قرآن کی حیثیت سے معروف ہیں،مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کو دوسرے علوم وفنون میں دسترس حاصل نہیں تھی،بلکہ آپ صحیح معنوں میں علوم عقلیہ ونقلیہ کے جامع تھے.
وہ وقت بڑا سعادت بخش تھا جب میرے خیال میں آیا کہ فن حدیث میں آپ کی اعلیٰ لیاقت وحذاقت کو اجاگر کیا جائے، آپ کے حدیثی افادات پر کام کیا جائے، اور اس فن میں بھی آپ کی گہرائی وگیرائی کو معرض ظہور میں لایاجائے.
اس نہج سے مطالعہ شروع کیا، مقالات شیخ القرآن ،مسائل سود اور آپ کے کچھ غیر مطبوع مضامین دیکھے، ان میں حدیث سے متعلق بہت سارے مواد ملے،کچھ دنوں تک مشکوۃ المصابیح آپ کے زیر درس رہی،آپ کے درس گاہی افادات الجامعۃ الاسلامیہ روناہی سے شائع ہونے والے ماہ نامہ "جامعہ" میں تسلسل کے ساتھ شائع ہوئے،میں نے اپنی اہلیت و رسائی کے مطابق ان افادات کو جمع کرنا شروع کیا،مختصر سے وقت میں محب گرامی حضرت مولانا غلام سید علی علیمی نظامی صاحب کے خصوصی تعاون سے سواسو صفحات پر مشتمل ایک کتاب تیار ہوگئی،مقدمہ لکھنا شروع کیا تو صفحات کی تعداد ڈیڑھ سو تک پہنچ گئی، فالحمد للہ علی منہ وکرمہ.
کتاب کی اشاعت کا مرحلہ آیا تو حضور شیخ القرآن علیہ الرحمہ کے سچے عقیدت مند،ان کے چہیتے اور معتمد عالی وقار جناب الحاج وصی الدین خان نورانی صاحب صدر اعلی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی سے بات ہوئی، حسب امید آپ نے اشاعت کی ذمہ داری اپنے کندھے پر لے کر حضرت سے اپنی مخلصانہ عقیدت کا ثبوت پیش کیا.
اس سے پہلے بھی حاجی صاحب نےزر کثیر خرچ کرکے حیات شیخ القرآن، مقالات شیخ القرآن اور مسائل سود کی اشاعت کروائی، جس کے لیے جملہ عقیدت مندان شیخ القرآن آپ کے احسان مند ہیں، اللہ تعالیٰ حاجی صاحب کو سلامت رکھے اور مزید خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے.
ان شاء اللہ تعالیٰ جلد ہی یہ کتاب منظر عام پر آئے گی، ابھی صرف ٹائٹل حاصل ہے،رب کریم اس کار خیر کو قبول فرمائے.

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں