[11/26, 19:27] کمال احمد علیمی نظامی: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ ناپاکی کی حالت میں قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ سکتی ہے یا نہیں اور بخاری شریف وجلالین شریف چھو سکتی ہے یا نہیں؟ اور ناپاکی کی حالت میں ناخن کاٹ سکتی ہے یا نہیں؟
جماعت: سادسہ
دارالعلوم علیمیہ نسواں جمدا شاہی بستی
*الجواب* بعون الملک الوھاب
ناپاکی کی حالت میں ترجمہ قران پڑھنا ناجائز وحرام ہے،ترجمہ قرآن کے پڑھنے اور چھونے کا وہی حکم ہے جو قرآن کریم کے پڑھنے اور چھونے کا ہے. چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
”(وقراءة قرآن) بقصده (ومسه) ولو مكتوبا بالفارسية في الاصح“ یعنی حیض و نفاس کی حالت میں قصداً قرآن کی قراءت کرنا حرام ہے یوں ہی اسے چھونا بھی حرام ہے، اصح قول کے مطابق خواہ وہ قرآن عربی کے علاوہ دوسری کسی زبان ہی میں کیوں نہ لکھا گیا ہو ۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الطھارۃ،١/ ٥٣٥ مطبوعہ کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے:
”حَیض و نِفاس والی عورت کو قرآنِ مجید پڑھنا دیکھ کر، یا زبانی اور اس کا چھونا اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصہ لگے یہ سب حرام ہیں۔“ ( بہار شریعت، ج ١، ص ٣٧٩، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ہاں ناپاکی کی حالت میں قرآنِ مجید دیکھنے میں کچھ حَرَج نہیں، اگرچہ حروف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں آئیں اور خیال میں پڑھتے جائیں۔
جیسا کہ بہار شریعت میں ہے :
” قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو اس کے بھی چھونے اور پڑھنے میں قرآنِ مجید ہی کا سا حکم ہے۔ قرآنِ مجید دیکھنے میں ان سب پر کچھ حَرَج نہیں اگرچہ حروف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں آئیں اور خیال میں پڑھتے جائیں۔“ ( بہار شریعت،١/ ٣٢٧ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ناپاکی کی حالت میں بخاری شریف، جلالین شریف وغیرہ کتب تفسير وحدیث کا چھونا مکروہ ہے،ہاں آستین یا کسی کپڑے سے چھونے میں حرج نہیں، البتہ ان کتابوں میں جہاں قرآن مجید کی آیت لکھی ہو اس جگہ کا چھونا حرام ہے، بہار شریعت میں ہے :
”(جنبی اورحیض و نفاس والی عورت ) ان سب کو فقہ و تفسیر وحدیث کی کتابوں کا چھونا مکروہ ہے اور اگر ان کو کسی کپڑے سے چُھوا اگرچہ اس کو پہنے یا اوڑھے ہوئے ہو،تو حَرَج نہیں مگر مَوْضَع ِآیت پر ان کتابوں میں بھی ہاتھ رکھنا حرام ہے۔“ (بھار شریعت، جلد١، حصہ٢، صفحہ ٣٢٧، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی )
ناپاکی کی حالت میں ناخن کاٹنے کی ممانعت نہیں ہےبلکہ اگر ناپاکی کے دنوں کے درمیان چالیس دن سے زیادہ مدت ہوجارہی ہو تو ناپاکی کے زمانہ میں تراشنا واجب ہوگا، کیوں کہ چالیس دن سے زائد ناخن نہ تراشنا ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے۔فتاوی رضویہ میں ہے۔
"بعض ضعیف حدیثوں میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت ہے، لہٰذا اگر بدھ کا دن وجوب کا دن آجائے، مثلاً انتالیس دن سے نہیں تراشے تھے، آج بدھ کو چالیسواں دن ہے، اگر آج نہیں تراشتا تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے، تو اس پر واجب ہوگا کہ بدھ کے دن تراشے اس لیے کہ چالیس دن سے زائد ناخن رکھنا ناجائز و مکروہ تحریمی ہے۔ اور اگرمذکورہ صورت نہ ہو تو بدھ کے علاوہ کسی اور دن تراشنا مناسب کہ جانب منع کو ترجیح رہتی ہے۔‘‘ ( فتاویٰ رضویہ ‘‘ ،ج ۲۲ ،ص ۶۸۵ ، ملخصاً )
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ : *کمال احمد علیمی نظامی*
١١ جمادی الاولی ١٤٤٥ء / ٢٦ نومبر ٢٠٢٣ ء
التصحیح:حضرت علامہ مفتی *محمد نظام الدین قادری* صاحب استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
[11/26, 19:59] کمال احمد علیمی نظامی: السلام علیکم ورحمۃاللہ برکاتہ
اولاد گود لينا شرعا کیسا ہے
اس تعلق سے تفصیل کے بارے میں رہنمائی فرمائیں
الجواب بعون الملک الوھاب.
تبنی کرنا یعنی کسی کا لڑکا یا لڑکی گود لینا شرعا جائز ہے،مگر تبنی سے حقیقی ولدیت ثابت نہیں ہوتی ہے اس لیے متبنی گود لینے والے کا حقیقی بیٹا یا بیٹی نہیں کہلائے گا، نہ ہی اولاد کی حیثیت سے متبنی مستحق وراثت ہوگا اور نہ ہی اس سے محرمیت متحقق ہوگی.
بہار شریعت میں ہے :
” تبَنی کرنا یعنی لڑکا گود لینا شرعاً منع نہیں،مگر وہ لڑکا اس کا لڑکا نہ ہوگا بلکہ اپنے باپ ہی کا کہلائے گا اور وہ اپنے باپ کا ترکہ پائے گا۔گود لینے والے کا نہ یہ بیٹا ہے نہ اِس حیثیت سے اس کا وارث،ہاں اگر وارث ہونے کی بھی اس میں حیثیت موجود ہے مثلاً بھتیجا کو گود لیا تو یہ وارث ہو سکتا ہے جبکہ کوئی اور مانع نہ ہو۔“
(فتاوی امجدیہ،٣/ ٣٦٥مطبوعہ مکتبہ رضویہ،کراچی)
اگر لڑکی کو گود لیا ہے تو شہوت کی عمر یعنی نو سال کی عمر ہوجانے پر اس کو اصل ماں باپ کے حوالے کرنا ضروری ہے اور اس کا گود لینے والے کے یہاں رہنا جائز نہیں، وہ گود لینے والے کے لیے اجنبیہ کی طرح ہے بشرطے کہ محرمیت کا رشتہ نہ ہو. چناں چہ
فتاوٰی رضویہ جلد 13 صَفْحَہ412 میں ہے :
’ ’ لڑکی بالِغہ ہوئی یا قریبِ بُلوغ پہنچی جب تک شادی نہ ہوضَرور اس کو باپ کے پاس رہنا چاہئے یہاں تک کہ نو برس کی عمر کے بعد سگی ماں سے لڑکی لے لی جائے گی اور باپ کے پاس رہے گی نہ کہ اجنبی (یعنی جس سے ہمیشہ کیلئے شادی حرام نہیں اُس کے پاس) جس کے پاس رہنا کسی طرح جائز ہی نہیں ، بیٹی کر کے پالنے سے بیٹی نہیں ہو جاتی.(١٣/ ٤١٢)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ : *کمال احمد علیمی* نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
١١ جمادی الاولی ١٤٤٥ / ٢٦ نومبر ٢٠٢٣
التصحیح:حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین قادری صاحب استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں