*پس چہ باید کرد*
کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
ملک عزیز کے موجودہ حالات سب پر عیاں ہیں، ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے،یہ سوال ہر ذہن کو پریشان کر رہا ہے،میں بھی ملت اسلامیہ کا ایک معمولی فرد ہوں، اس لیے میری بھی وہی کیفیت ہے جو آپ کی ہے،اس سوال کے جواب میں چند باتیں ذہن میں آئیں، جنھیں پیش کررہا ہوں:
١-سب سے پہلے اپنا ایمان مضبوط کریں، ایمان ہی ہمیں ہمت وطاقت دیتا ہے،اسی سے ہمیں باطل سے ٹکرانے کا حوصلہ ملتا ہے،ہمارے اسلاف نے کبھی بھی اپنی قوت بازو پر بھروسہ نہیں کیا، ہمیشہ ایمان کی طاقت سے معرکے سر کیے، قیصر وکسری کا غرور خاک میں ملایا اور پوری کائنات میں اسلام کی برکتیں عام کیں.اس تعلق سے قرآن کا یہ ارشاد ہم سے بہت کچھ کہتا ہے :
وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(آل عمران :١٣٩)
ترجمہ: اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کھاؤ، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب آؤ گے ۔
٢-اپنے اعمال پر توجہ دیں،نیک عمل ہمیں روحانی طاقت دیتا ہے جب کہ بدعملی ہمیں بزدل بناتی ہے،اس کا تجربہ آپ خود کرسکتے ہیں،ہمارے بزرگوں نے اپنے نیک اعمال ہی کی وجہ سے تسخیرِ کائنات کا اعزاز حاصل کیا،ہم بے عمل یا بد عمل ہوکر کبھی بھی کسی محاذ پر کام یاب نہیں ہوسکتے.کتاب مجید نے واضح طور پر عمل خیر کو انسانی فلاح وبہبود کی بنیاد قرار دیا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.
’’اے ایمان والو! رکوع سجدہ کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ‘‘[الحج:۷۷]
٣-اپنے اندر جذبہ اتحاد کو فروغ دیں، بغیر اس کے ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے،اتحاد اہل خیر کا ہو یا اہل شر کا اپنا رنگ ضرور دکھاتا ہے، غیر متحد ہو کر کامیاب ہے تو اہل حق کیوں نہیں،یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی تبھی یاوری کرتی ہے جب ہماری صفوں میں اہل بدر جیسا مضبوط اتحاد ہو،غیبی مدد کے مستحق وہی ہوتے ہیں جن کے اندر دین کے نام پر یکتائی ہوتی ہے،ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے والے کبھی سرخ رو نہیں ہوسکتے،اتحاد کے داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان لائق دید ہے :
لَا يَجْمَعُ اللَّهُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ أَبَدًا وَيَدُ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ“(المستدرک ج ١ ص١١٦ ح٣٩٩)
یاد رہے کہ اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، جب کہ انتشار ہماری سب بڑی کمزوری ہے، قرآن مجید میں ہے :
وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(الانفال:٤٦)
ترجمہ:اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو بےشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے.
٤-ترجیحات کا تعین کریں،جو ضروری ہو اس پر زیادہ توجہ دیں،غیر ضروری چیزوں میں نہ مال خرچ کریں نہ وقت،نہ انرجی،اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں،میں جلسے جلوس اور
مہنگی تقریبات پر کچھ تبصرہ نہ کرکے بس اتنا عرض کروں گا کہ موجودہ حالات ہم سےمہنگے جلسوں کا تقاضا نہیں کررہے ہیں،محدود پیمانے پر کم خرچ میں بھی مذہبی تقریبات کا انعقاد ممکن ہے، اصلاح معاشرہ کے نام پر بڑی بڑی تقریبات بھی وقت کا تقاضا نہیں،مہنگی شادیاں، ختنے اور عقیقے بھی سنت طریقے سے کیے جاسکتے ہیں،اس وقت ہمیں اپنا پیسہ، وقت، انرجی سب کو ملت اسلامیہ کے تحفظ وبقا میں لگانے کی ضرورت ہے،مخلص مسلم وکلا کی ٹیم تیار کی جائے،مذہب ومسلک کے ہم درد علما ودانش وران کی نشستیں رکھی جائیں، قانونی محاذ پر لڑائی لڑنے کے لیے زندہ دل افراد تیار کیے جائیں،ان امور پر پیسے خرچ کیے جائیں،اپنی دولت، طاقت اور انرجی خرچ کرکے ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کریں جو میڈیا سے لے کر کورٹ تک آپ کی لڑائی لڑسکے، آپ کا دفاع کرسکے، آپ کی مساجد، مدارس اور خانقاہوں کی حفاظت کرسکے.
٥-کون قائد ہے، کون مسیحا ہے ،اس چکر میں بہت زیادہ نہ پڑیں، مسلم امہ کا ہر فرد قائد ہے،اس معاملے کو طول دینے کے بجائے ہم کیا کرسکتے ہیں اس پر توجہ دیں، تحریر، تقریر، تدریس جس میدان سے بھی ہم اپنی قوم کے لئے کچھ کرسکتے ہوں کریں، لایکلف اللہ نفسا الا وسعها ،ہم طاقت سے زیادہ کے مکلف نہیں، نہ دوسرے کی فکر وعمل کے محاسِب،ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ ان فاتحینِ مفتوحات اور روباہ صفت شیروں سے خود کو آزاد کر لیں جو صرف اسٹیجوں پر دہاڑتے ہیں،نہایت حساس اور سنگین مسائل پر بھی مہر سکوت نہیں توڑتے ہیں، نہ ہی کوئی ٹھوس عملی اقدام کرتے ہیں،تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو دور سے بیٹھ کر ملت اسلامیہ کی بربادی کا تماشا دیکھنے میں لگے ہوئے ہیں.
٦-جتنی جلدی ممکن ہو اپنے مدارس، مساجد اور خانقاہوں کے جھگڑے نپٹا لیں،ہر نزاع کا خوب صورت انجام مصالحت ہے،ابھی اپنوں سے لڑنا ہمیں مزید کمزور کرے گا، آپسی خانہ جنگی کا انجام بہت برا ہونے والا ہے، آج مدارس ومساجد کو لے کر جو مسائل ہمیں درپیش ہیں ان کا بنیادی سبب کچھ بھی ہو کہیں نہ کہیں ہماری آپس کی نااتفاقی کا بھی دخل ہے، جب دین کے ان مراکز کے محافظین ہی آپس میں جھگڑیں گے تو غیروں سے ان کا دفاع کیا کریں گے،کیا یہ سچائی نہیں کہ اسی نوے فی صد مدارس اور خانقاہوں میں ملکیت، منصب اور انانیت کی لڑائی جاری ہے، ایسے میں ان کی حفاظت کون کرے گا،یاد رہے کہ جس دن دین کے یہ قلعے زمیں بوس ہوگئے ہمیں سر چھپانے کونہ کہیں جگہ ملے گی نہ آنے والی نسلوں کو ہم منہ دکھانے کے لائق رہیں گے.
٦-موجودہ حالات میں ہم بنیادی طور سے دو شعبوں پر خاص توجہ دیں: ایک تو تعلیم، دوسری تجارت،تجارت ترقی کی راہ ہے تو تعلیم مشعلِ راہ،اس کا فائدہ ہمیں دیر میں ملے گا، مگر ملے گا ضرور،ہندوستان میں اپنی تعلیم اور بزنس سے ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اس ملک کی ضرورت ہیں،آج بھی جو لوگ ان دونوں شعبوں میں کام یاب ہیں ان کی قدر ہے، اعلی عہدوں پر فائز ہیں،ان کی وجہ سے بہت سارے معاملات میں مسلمانوں کو فائدہ ملتا ہے.
٧-آخری بات،ہم جو بھی کریں شریعت اور حتی الامکان ملکی قانون کے دائرے میں رہ کر کریں،نہ شریعت کا دامن ہاتھ سے جانے دیں، نہ ملکی آئین سے بغاوت کریں،جو بھی کریں سوچ سمجھ کر کریں،اپنے کریم رب پر بھروسہ رکھیں، اپنے بڑوں کی رائے سے استفادہ کریں ، اسی میں ہماری بھلائی ہے اور ملت کی فلاح بھی.

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں