Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

فتویٰ

 خالہ جب تک اپنے شوہر کے نکاح یا عدت میں ہے اس کے شوہر سے نکاح جائز نہیں. 

حدیث شریف میں ہے: "عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نہی ان تنکح المرأۃ۔۔۔علی خالتہا"(مسلم شریف کتاب النکاح) 

ہاں طلاق یا وفات کے بعد جب عدت گزر جائے تو نکاح جائز ہوگا.

فتاویٰ رضویہ میں ہے :

زوجہ کے انتقال ہوتے فورا اس کی بھتیجی بھانجی سے نکاح جائز ہے "لعدم الجمع نکاحا و لا عدۃ اذ لا عدۃ علی الرجل کما حققہ فی العقود الدریۃ  اھ۔"

بوجہ عدم اجتماع کے نکاح اور عدت میں کیونکہ مرد پر عدت نہیں ہوتی جیسا عقود الدرایۃ میں تحقیق فرمائی۔ 

(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم صفحہ ٤٢٣) 


واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب


کمال احمد علیمی نظامی

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Post a Comment

0 Comments