Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

فتوی

 *سوال*

مرد عورت کی نماز میں فرق کیوں ہے؟ 

شب براءت کا روزہ کہاں سے ثابت ہے؟ 

فاتحہ کی دلیل کیا ہے؟. 


*الجواب* بعون الملک الوھاب

 *١_* عورت اور مرد کی نماز میں چند امور میں فرق ہے :

١-تکبیر تحریمہ میں مرد اپنے کانوں تک ہاتھ اٹھائے گا جب کہ عورت اپنے سینے تک. 

٢-مرد اپنے ناف کے نیچے ہاتھ باندھے گا جب کہ عورت اپنے سینے پر.

٣-مرد رکوع میں اپنے بازو اپنے پہلو سے جدا کرکے رکوع کرے گا جب کہ عورت اپنے بازو پہلو سے ملا کر رکوع کرے گی.

٤-مرد سجدہ میں اپنے بازؤں کو پہلو سے جدا کرکے کھل کر سجدہ کرے گا، جب کہ عورت اپنا پیٹ اپنی ران، اور اپنے بازو پہلو سے ملا کر حتی الامکان سمٹ کر سجدہ کرے گی.

٥-قعدہ کی حالت میں مرد بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے گااور دایاں پاؤں کھڑا رکھے گا، جب کہ عورت چہار زانو ہو کر اپنے دونوں پیر دائیں طرف نکال کر اور دونوں ران ملا کر بیٹھے گی۔

مذکورہ تفصیل سے واضح ہوا کہ عورت کو فقط چند امور میں مرد سے الگ کیفیت وہیئت میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کا مقصد اصلی پردہ پوشی ہے،مخصوص طریقے سے تکبیر تحریمہ، رکوع، سجدہ اور قعدہ کا حکم اسی لئے دیا گیا ہے تاکہ ان کے جسم کی ہیئت وساخت جس سے فتنے کا اندیشہ ہے ظاہر نہ ہو سکے،اور کامل ستر عورت کے ساتھ نماز ادا کرسکے، درج ذیل فقہی عبارات اس پر شاہد ہیں :

فتح القدير میں ہے:

"المرأة ترفع يديها حذاء منکبيها، وهو الصحيح؛ لأنه أسترلها". (فتح القدير:١/٢٤٦)

تکبیر تحریمہ کے وقت عورت اپنے کندھوں کے برابر اپنے ہاتھ اٹھائے، یہ صحیح تر ہے؛ کیوں کہ اس میں اس کی زیادہ پردہ پوشی ہے.

فتح باب العنایہ لملا علی القاری میں ہے:

"وَ الْمَرْاَةُ تَضَعُ یَدَیْهاعَلٰی صَدْرِها اِتِّفَاقًا؛ لِاَنَّ مَبْنٰی حَالِها عَلَی السَّتْرِ". (فتح باب العنایة:١ /٢٤٣)

عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہا کا اتفاق ہے، کیوں کہ عورت کی حالت کا دارو مدار پردے پر ہے۔

سعایہ میں ہے:

"وَاَمَّا فِي حَقِّ النِّسَاءِ فَاتَّفَقُوْا عَلٰی أَنَّ السُّنَّةَ لَهُنَّ وَضْعُ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّدْرِ لِأَنَّهَا أَسْتَرُ لَهَا". (السعایة:٢/ ١٥٦)

رہی عورتوں کے حق میں ہاتھ باندھنے کی بات تو تمام فقہاکا اس پر اتفاق ہے کہ ان کے لیے سینہ پر ہاتھ باندھنا مسنون ہے؛ کیوں کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔

مصنف عبدالرزاق میں ہے:

عن الحسن وقتادة قالا: إذا سجدت المرأة؛ فإنها تنضم ما استطاعت ولاتتجافي لكي لاترفع عجيزتها". (مصنف عبدالرزاق ،باب تکبیرة المرأة بیدیها وقیام المرأة ورکوعها وسجودها، ٣/ ٤٩)

حضرت حسن بصری اور حضرت قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں: جب عورت سجدہ کرے تو جہاں تک ہوسکے سکڑ جائے اور اپنی کہنیاں پیٹ سے جدا نہ کرے؛ تاکہ اس کی پیٹھ اونچی نہ ہو۔

فتح القدير لابن الہمام میں ہے:

"فإن کانت إمرأة جلست علی إليتهاالأيسری و أخرجت رجليها من الجانب الأيمن لأنه أسترلها".

( فتح القدير:١/ ٢٧٤) 

’’اگر عورت نماز ادا کر رہی ہے تو اپنے بائیں سرین پر بیٹھے اور دونوں پاؤں دائیں طرف باہر نکالے کہ اس میں اس کا ستر زیادہ ہے.

مذکورہ حوالہ جات سے پتہ چلتا ہے کہ عورت اور مرد کی نماز میں فرق کی وجہ عورت کی پردہ پوشی ہے.

 *٢*_شب براءت کا روزہ اس حدیث شریف سے ثابت ہے :

"عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا كانت ليلة النصف من شعبان، فقوموا ليلها وصوموا نهارها، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا ألا كذا، حتى يطلع الفجر."

(سنن ابن ماجہ، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان،ج:۱،ص:۴۴۴،مطبوعہ :دارالمعرفۃ بیروت)

 *ایک دوسری روایت* میں بھی شعبانُ المعظم کے روزے کا ذکر ہے،چناں چہ نبی کریم علیہ السلام سے سوال کیا گیا:

 ”اَیُّ الصَّوْمِ افضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟. 

تو فرمایا :

" شعبانُ لِتَعْظِیْمِ رمضَانَ“ رمضان المبارک کے بعد افضل روزہ کون سا ہے؟ فرمایا: رمضان کی تعظیم کے لیے شعبان کا روزہ.

 (ترمذی شریف ۱/۱۴۴، باب فضل الصدقہ)

 *شب براءت کا روزہ* "صحیح مسلم" کی اس حدیث سے بھی ثابت ہے: 

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ - أَوْ لِآخَرَ : " *أَصُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ* ؟ ". قَالَ : لَا، قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ ".

( كِتَابٌ : الصِّيَامُ.  | بَابٌ : صَوْمُ سُرَرِ شَعْبَانَ.) 

یعنی عمران بن حُصَيْن سے روایت ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے یا کسی اور سے فرمایا: کیا تم نے اس ماہ کے "سُرَر" میں روزہ رکھا؟ تو اس نے عرض کیا: نہیں، تو حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم رمضا ن کے روزے ختم کر لو اس کے بعد دو دن کے روزے رکھ لینا۔

 یہاں "سرر" سے مراد کیا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئےامام نووی علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں:

" قال الأوزاعي و أبو عبيد و جمهور العلماء من أهل اللغة والحديث والغريب: المراد بالسرر آخر الشهر، سميت بذلك لاستسرار القمر فيها، قال القاضي: قال أبو عبيد وأهل اللغة : السرر آخر الشهر ، قال : *وأنكر بعضهم هذا، و قال: المراد وسط الشهر*" 

یعنی "سرر شعبان " سے مراد شعبان کی پندرہویں تاریخ ہے.لہذا اس حدیث شریف سے بھی پندرہ شعبان کے روزے کا استحباب ثابت ہوتا ہے.

 *٣*_فاتحہ بھی متعدد دلائل سے ثابت ہے.

١-حدیث شریف میں ہے  : 

" "عن سعد بن عبادة قال سعد يا رسول الله ان ام سعد ماتت فاى الصدقة افضل قال الماء فحفر بئرا وقال هذه لام سعد"

یعنی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ سعد کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے ان کے لئے کون سا صدقہ افضل ہے ۔ سرکار نے فرمایا پانی تو آپ نے کنواں کھودوایا اور کہا یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے یعنی اس کا ثواب ان کی روح کو پہنچے۔

 (ابوداؤد باب الزکاة جلد اول صفحہ ۱۹۹)

٢-حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ کچھ کہتیں تو صدقے کا کہتیں پَس اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اُنہیں ثواب پہنچے گا فرمایا: ’’ہاں‘‘(صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب موت الفجاة البغتة،۱ / ۴۶۸،حدیث:۱۳۸۸)

٣- حضرتِ انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نبی کریم علیہ السلام سے عرض کیا:ہم اپنے مُردوں کے لئے دُعا کرتے اور اُن کی طرف سے صَدَقہ اور حج کرتے ہیں،کیا اُنہیں اِس کا ثَواب پہنچتا ہے؟آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اِنَّهٗ لَيَصِلُ اِلَيۡهِمۡ وَيَفۡرَحُوۡنَ بِهٖ كَمَا يَفۡرَحُ اَحَدُكُمۡ بِالۡهَدِيَّةِ. انہیں اِس کا ثواب پہنچتا ہے اور وہ اِس سےایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی شخص تحفے سے خوش ہوتا ہے۔(عمدۃ القاری،ج٦، ص٣٠٥)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

کتبہ : *کمال احمد علیمی نظامی* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

١٤ شعبانُ المعظم ١٤٤٥ ھ / ٢٥ فروری ٢٠٢٤ء

Post a Comment

0 Comments